Slider[Style1]

Style2

Style3[OneLeft]

Style3[OneRight]

Style4

Style5


کراچی ۔ مسلم لڑکے سے شادی نہ کرنے (جبری تبدیلی مذہب) پر دسویں کلاس کی مسیحی طالبہ بینش پال کومسلم لڑکے طاہر عباس نے دوسری منزل سے نیچے گرا دیا۔ 
مسلم لڑکا طاہر عباس جو کے گلستان جوہر کا رہنے والا ہے بینش پال نامی مسیحی لڑکی کو پسند کرتا تھا۔ اس نے بینش کے گھر آ کے لڑکی کا رشتہ مانگا مگربینش کے گھر والوں نے رشتہ سے انکار کر دیا اور کہا کہ ہمارا اور آپ کا مذہب ایک نہیں ہے اس لیے ہم یہ رشتہ نہیں کر سکتے جس پر طاہر آگ بگولہ ہو گیا۔ بارہا    بینش کو شادی کے لیے کہتا رہا مگر لڑکی شادی سے انکار کرتی رہی۔ بار بار انکار سن کرآخرکار طاہر عباس نے بینش کو دوسری منزل سے نیچے پھینک دیا۔بینش کو زخمی حالت میں جناج ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں میڈیکل رپورٹ میں معلوم ہوا کہ بینش کی ریڑھ کی ہڈی اور دومہرے ٹوٹ گئے ہیں۔
مسلم لڑکے طاہر عباس نے ہسپتال کے عملے کو پیسے دے کر رپورٹ کو دبانے کی کوشش کی۔
بینش کے گھر والوں نے اس جبری مذہبی تبدیلی اور ظلم کے خلاف تھانہ ابراہیم حیدری میں طاہر کے خلاف درخواست دی جس پر تھانہ کے عملے نے ملزم کو گرفتار کرنے کی بجائے ملزم کا ساتھ دینا شروع کر دیا۔تھانے کے عملے نے بینش کے گھر والوں کو ڈرانے دھمکانے کا سلسلہ شروع کردیا اور ان کے گھر آ کے انکی خواتین کے لیے غیر مناسب لفظ استعمال کیے، اور کیس کو ختم کرانے کے لیے دباؤ ڈالا۔
اس دل سوز جبری مذہبی تبدیلی اور بینش پر ظلم ہوئے پندرہ روز ہوچکے ہیں، پر ابھی تک ان کی کوئی مدد نہیں ہوئی بلکہ طاہر عباس سے مل کر پولیس ان کو آئے روز پریشان کرتی ہے، اور ان کو کیس واپس لینے کے لیے مختلف حربے استعمال کرتی ہےاور ان کو ایم ایل او کے لیے بھی تعاون نہیں کر رہی ہے۔
بینش اس وقت زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی ہے جب کے جرم کرنے والا اب تک آزاد ہے۔



Report | (Ab Takk-Jaag Masihi News)

About Web Desk

A Responsible Team of Christian Authors, Bloggers, Journalists and News Reporters..
«
Next
Newer Post
»
Previous
Older Post

Top